ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیر اعظم نے لال قلعہ سے کیا انتخابی خطاب، موب لنچنگ پر نہیں کی مذمت، لیکن مسلم خواتین کی لڑائی کو بتایا اپنی لڑائی

وزیر اعظم نے لال قلعہ سے کیا انتخابی خطاب، موب لنچنگ پر نہیں کی مذمت، لیکن مسلم خواتین کی لڑائی کو بتایا اپنی لڑائی

Wed, 15 Aug 2018 11:18:05    S.O. News Service

نئی دہلی، 15؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر اعظم نریندر مودی کا اپنے خطاب میں یہ کہنا کہ میں بے صبر ہوں، میں بے چین ہوں کیونکہ میں ملک کو آگے لے جانا چاہتا ہوں اور ساتھ میں پچھلی حکومت کی رفتار اور ذہنیت پر تبصرہ کرنے سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ یہ خطاب ایک انتخابی خطاب کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ وزیر اعظم نے کوئی ایک بھی بات ایسی نہیں کی جو ہندوستانی عوام نے پہلے کئی مرتبہ نہ سنی ہو۔ مودی کے چلنے سے اور بولنے تک یہ بات نظر آ رہی تھی کہ ان کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ بات گشت کر رہی تھی کہ بہت ممکن ہے کہ لال قلعہ سے یہ ان کا آخری خطاب ہو۔ چال میں اعتماد کا غیر ضروری اظہار اور بولنے میں غیر ضروری زور دینے سے واضح تھا کہ  ان کی نظر آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات پر ہے۔

مودی نے اپنے خطاب میں خواتین پر سب سے زیادہ زور  دیا اور ایک مرتبہ پھر طلاق ثلاثہ کا ذکر کرتے ہوئے مسلم خواتین کی لڑائی کو اپنی لڑائی بتایا لیکن اپنے ڈیڑھ گھنٹے کے خطاب میں موب لنچنگ اور گئو رکشکوں کے تشدد کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے عصمت دری کے واقعات کا ذکر کیا بھی تو اپنی مدھیہ پردیش اور راجستھان حکومتوں کے تحت عصمت دری کے معاملوں میں جلد سزا دینے کو لے کر تعریف کی ۔ مودی نے اپنے خطاب میں نئی طبی اسکیم کا بھی خوب زور شور سے ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں جنوب پر نطر رکھتے ہوئے سبرامنیم بھارتی کا ذکر کیا اور شمال مشرق پر سب سے زیادہ توجہ دی جس کا صاف مطلب تھا کہ وہ شمال میں ہونے والے انتخابی نقصان کی بھرپائی جنوب اور شمال مشرق کی ریاستوں سے پورا کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ہر پہلو پر تبصرہ کیا، چاہے وہ آدیواسی کا ہو، طلباء کا ہو، خواتین کاہو، کسان کا ہو، فوج کا ہو، ٹیکس دہندگان کا ہویا مزدورں کا۔ وزیر اعظم کے خطاب سےایسا محسوس ہوا جیسے ملک میں پریشانیاں ختم ہو چکی ہیں اور اس کے لئے ایک مرتبہ پھر انہوں نے کئی اعداد و شمار ایسے پیش کئے جو موضوع بحث رہ چکے ہیں۔ خطاب کی شروعات میں انہوں نے کہا کہ ملک نئی اونچائیوں کو پار کر رہا ہے لیکن آخر میں پھر کہا کہ مجھے ملک کو نئی اونچائیوں پر لے جانا ہے۔

وزیر اعظم کے ذہن میں یہ خوف ہے کہ کہیں عوام ان کے دور اقتدار کا ماضی کی حکومت کی کارکردگی سے موازنہ نہ کرنے لگیں اس لئے انہوں نے پچھلی حکومت کا رونا بہت رویا۔ کشمیر پر یو ٹرن لیا اور پڑوسی ملک یا بیرون ممالک سے رشتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ان محاذ پر حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے لال قلعہ کو انتخابی جلسے میں بدل تو دیا ا لیکن کیا عوام سنی سنائی باتوں پر غور کرے گی ؟  عوام کو چار سالوں میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور جو آئی ہے وہ بے حد پریشان کن ہے۔ وزیر اعظم نے صرف اپنی حکومت کی تعریف کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کہا یعنی ان کے ذہن پر ٓائندہ سال ہونے والے عام انتخابات کا زبردست خوف ہے۔

وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل پر قومی پرچم لہرایا

 وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو 72 ویں یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل پر قوم پرچم لہرایا۔ اس کے ساتھ ہی ترنگے کو 21 توپوں سے سلامی دی گئی۔

اس موقع پر کئی مرکزی وزیر، الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے اہم لیڈرز اور کئی معزز شخصیت اور بڑی تعدادمیں دیگر لوگ موجود تھے۔ راہل گاندھی بھی تقریب میں شرکت کے لئے پہنچے تھے۔

واضح رہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر راہل گاندھی کو اگلی قطار میں جگہ نہیں ملی تھی لیکن آج وہ اگلی قطار میں وی آئی پی شخصیات کے درمیان نظر آئے۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ایچ ڈی دیوے گوڑا بھی موجود رہے۔

اس سے پہلے وزیر اعظم نے راج گھاٹ جا کر بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔راج گھاٹ پہنچنے سے پہلے انہوں نے ٹوئٹ کرکے ملک کے عوام کو یوم آزادی کی نیک خواہشات پیش کی۔ انہوں نے لکھا ’’یوم آزادی کے مبارک موقع پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات، جے ہند‘‘۔

یوم آزادی کے موقع پر مسلح فورسز کے 20 جوانوں کو ’شوریا چکر‘ سے نوازا جائے گا۔ ان میں میجر آدتیہ کمار، رائفل مین اورنگزیب کے نام بھی شامل ہیں۔ ملی ٹینٹوں نے جون کے مہینے میں اورنگزیب کا پلوامہ میں اغوا کر کے اس وقت قتل کر دیا تھا جب وہ عید منانے کے لئے چھٹی پر اپنے گھر جا رہے تھے۔


Share: